ہری پور میں تین بچے لاپتہ ہوگئے۔

ہری پور:
ہری پور کے مختلف شہری علاقوں سے ایک ہفتے کے اندر معصوم بچی سمیت تین بچے پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے۔ بچوں کی گمشدگی پولیس کے لیے بھی معمہ بن گئی ہے جب کہ شہریوں میں خوف وہراس پھیل گیا ہے۔
پولیس کی جانب سے اب تک بچوں کا سراغ لگانے میں ناکامی پر لواحقین کو شدید تشویش ہے جبکہ ڈی پی او ہری پور نے متاثرہ خاندان کو ہر ممکن کوشش کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ہری پور کے مختلف علاقوں سے ایک ہی ہفتے میں ایک معصوم بچی اور دو لڑکے پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے۔ ان کی گمشدگی نے پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے جبکہ یہ واقعات مقامی پولیس کے لیے ایک سنگین معمہ بن گئے ہیں۔
معصوم بچوں کے یکے بعد دیگرے لاپتہ ہونے کی خبروں سے ضلع بھر میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔
گزشتہ سات دنوں کے دوران ہری پور کے الگ الگ رہائشی علاقوں سے تین بچے گھروں کے قریب کھیلتے ہوئے یا کسی کام سے باہر جاتے ہوئے لاپتہ ہوگئے۔ ان واقعات کے بعد علاقے میں اغوا کار گروہ کی موجودگی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
متاثرہ خاندانوں نے اپنے طور پر رشتہ داروں اور گردونواح میں بہت تلاش کیا لیکن کوئی سراغ نہ ملنے پر انہوں نے متعلقہ تھانوں میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔
واقعہ کی اطلاع ملنے پر مقامی پولیس نے تفتیش شروع کردی۔ تاہم ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود لاپتہ بچوں کے حوالے سے کوئی ٹھوس پیش رفت یا سراغ نہیں مل سکا۔
پولیس حکام کا کہنا تھا کہ معاملے کی تمام زاویوں سے تفتیش کی جا رہی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے تاہم یہ معاملہ فی الحال معمہ بنا ہوا ہے۔
دریں اثناء ڈی پی او ہری پور شفیع اللہ گنڈا پور کی زیر صدارت لاپتہ لڑکی آیت نور کے کیس کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ایس ایس پی انویسٹی گیشن شبیر حسین شاہ، ڈی ایس پی سٹی سجاد خان، تھانوں سرائے صالح، ٹی آئی پی اور صدر کے ایس ایچ اوز، او سی یو انچارج، ڈسٹرکٹ سیکورٹی برانچ کے انچارج، آئی ٹی ٹیم، بچی کے والد، سول سوسائٹی کے نمائندوں، علاقہ عمائدین اور مکینوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں کیس میں اب تک ہونے والی پیش رفت، تفتیشی امور اور بچی کی بازیابی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں اور علاقہ مکینوں نے بھی اپنی تجاویز پیش کیں۔
Source link



